622
ء
اسلامی کیلنڈر (ہجری) کا آغاز : ( سنہ 14 نبوی )
عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد قریش کے مظالم نے مسلمانوں کے لئے مکہ کی رہائش
غیر ممکن بنادی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو اپنی جان بچانے کے
لئے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانے کی اجازت دیدی اور صحابہ کا مدینہ
کیطرف ہجرت۔ سنہ 14 نبوی کے شروع میں آپ ﷺ ، حضرت ابوبکر
صدیق ، حضرت علی اور ان کے اہل وعیال باقی رہ گئے تھے۔ چونکہ مکہ
سے سب لوگ جاچکے تھے، ، دارالندوہ میں قبائل قریش نے دین کے بانی صلی اللہ علیہ
وسلم کا خاتمہ کرنے کے لئے مشورہ کرنے کے لئے جلسہ کیا۔ وحی
قرآن (17:80) کے
ذریعہ آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور آپ ﷺ ، حضرت
ابوبکر کے ساتھ روانہ ہوۓ اور مکہ کی نشیبی سمت چار میل کے فاصلہ پر
کوہ ثور کے ایک غار " غار ثور " ( تین دن اور تین رات ) چھپ کر بیٹھ
رہے۔ ( سورہ توبہ 9:40) لیکن قریش کے بڑے بڑے سردار انعامی
اشتہار مشتہر کرکے خود بھی سراغ رسانوں کو ہمراہ لے کر نقش قدم کا سراغ لیتے ہوۓ غار ثور کے منہ تک
پہنچ گئے لیکن مکڑی کا جالا قرآن ( ( 8:30اور تاریکی اور خطرناک
غار کو دیکھ کر کسی کی ہمت اندر جانے کی نہ ہوئی۔کفار اپنی تلاش و جستجو میں خائب
و خاسر اور نامراد ہوکر واپس چلے گئے ۔ پھر آپ ﷺ نے القصوا پر سوار ہوکر
روانگی سے پیشتر مکہ کی طرف دیکھا اور حسرت کے ساتھ فرمایا کہ " مکہ ، تو
مجھے تمام شہروں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے رہنے والوں نے مجھے یہاں رہنے نہیں دیا
" ۔ ( اب تک جس قدر مسلمان ہوۓ ہیں وہ کن حالات میں اور کس طرح اسلام کی
صداقت سے متاثر ہوکر انہوں نے کیسی کیسی روح فرسا اور کوہ شکن مصیبتوں کا مقابلہ
کیا ہے ! کیا مسلمانوں کی نسبت یہ گماں کیا جا سکتا ہس کہ یہ لالچ یا خوف کے ذریعہ
مسلمان کیے گئے تھے ؟ ) 8 روز کے سفر کے بعد آپ 8 ربیع
الاول دوشنبہ ، سنہ 14 نبوی ( 23ستمبر 622
سن عیسوی یا
نبوت13 ) کو دوپہر کے وقت قبا (
مدینہ سے چند میل دور جہاں قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے لوگ آباد تھے اور روشنی
اسلام سے منور ہوچکے تھے) کے قریب پہنچے، جمعہ تک مقیم رہے یہی آپ نے ایک
مسجد کی بنیاد رکھی جو سب سے پہلی مسجد ( مسجد قبا ) تھی جو اسلام میں بنائی گئی۔
اس کے بعد 12 ربیع الال جمعہ کے روز آپ ﷺ قبا سے روانہ ہوکر
مدینہ میں داخل ہوۓ، مدینہ کے ایک میدان ( بنو سالم بن عوف کے محّلہ) میں آپ ﷺ نے 100 آدمیوں
کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی جوکہ مدینہ میں آپ ﷺ کا پہلا جمعہ اور پہلا
خطبہ تھا، اس جگہ بھی بعد میں ایک مسجد تیار ہوگئی۔ آپ ﷺ 11 مہینے اور چند
روز حضرت ابوایوب انصاری کے مکان میں رہے ( اس افتادہ زمین پر آپ
کی اونٹنی اللہ کے حکم سے بیٹھی تھی) پھر آپ کے مکان کی تعمیر
ہوئی۔
آپ ﷺ کا داخلہ مدینہ کے اندر
ماہ ربیع الاول 14 نبوی میں بیان کیا گیالیکن آپ کی بعثت اور نبوت کو صرف
ساڑھے بارہ سال ہوۓ تھے، اسی طرح آپ کے مدینہ میں ہجرت فرما کر تشریف لانے سے سنہ
ہجری شرو ع ہوتا ہے۔ ( تاریخ اسلام ،
مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 117-129 )
ہجرت کا پہلا سال : 1 ھ
مسجد نبوی کی تعمیر، مکان
نبوی کی تعمیر، منافقت ( عبداللہ بن ابی بن سلول)کی ابتداء، خاندان نبوت کی مکہ
آمد ، اسی سال مسجد میں نمازیوں کو بلانے اور مجتمع کرنے کے لئے اذان ( عبد
الله بن زید بن ثعلبہ بن عبدر بہ خزر جی
انصاری کو خواب کے زریعے الفاظ اور
حضرت بلال سے پکارنے کا حکم ) شروع ہوئی۔ اسی سال یہود کے ایک زبردست عالم
حضرت عبداللہ بن سلام مسلمان ہوۓ، اسی سال سلمان فارسی (
جو اول مجوسی تھے،پھر عیسائی مذہب قبول کیا تھا اوریہود و نصاری کی کتابیں پڑھ کر
آخرالزمان کی آمد کی منتظر تھے)، اسلام قبول کیا، نماز باقاعدہ قائم
ہوئی ،روزے فرض ہوئے(2:183)،شرعی حدود جاری اور حلال
و حرام کی پابندی ہوئی ، اسی سال زکوۃ فرض ہوئی۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا
اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 132 )
حضرت
عائشہ سے شادی : ( ماہ شوال 1ھ )
ہجرت کا دوسرا سال :2ھ
بروز منگل
15ماہ شعبان میں تحویل قبلہ
کا حکم ( 2:144) اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا، چند ہی روز کے
بعد رمضان کے روزے فرض ہوگئے ،
سن وار غزوات : رسول الله صلم
بروز پیر قریبا
بوقت زوال12
ربیع الاول1 ھ میں
مدینہ تشریف لایے اس وقت آپ کی عمرمبارک 53سال تھی ( کہ 13سالہ دور مکہ میں گزارا) اور مدینہ میں پورا
سال قیام کے بعد جہاد کے لئے ماہ سفر میں روانہ ہوئے .
624
ء
غزوہ بدر : (جمعہ 17
رمضان 2 ھ / 17 مارچ 624ء)(8:12) (3:123)
( مدینہ سے جنوب میں تقریبا
150 کلومیٹر پہاڑوں کے درمیان کنواں بدر ) بدر کے مقامات پر مسلمانوں اور
مشرکینِ مکہ کے درمیان غزوہ بدر ہوئی۔ مسلمانوں کی تعداد 313 ( 313 میں
بعض ایسی چھوٹی عمر کے لڑکے بھی تھے جو میدان جنگ میں جانے کے قابل نہ تھے، دو
گھوڑے جن پر زبیر اور مقداد سوار تھے، 70 اونٹ تھے ایک
ایک اونٹ پر تین تین چار چار آدمی سوار تھے ) جبکہ کفار مکہ کی تعداد ایک ہزار
جرار فوج ( جس میں 700 اونٹ اور 300 گھوڑے تھے، گانے والےاور رجز پڑھنے والے، بھی
ہمراہ تھے،) کی تھی۔ مسلمانوں کو جنگ میں فتح ہوئی۔ 70 مشرکینِ مکہ ( ابوجہل ،
امیہ بن خلف، اور ابو لہب کسی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہوسکا تھا اس نے جب
مکہ کے تمام بڑے بڑے سرداروں کے مقتول اور اہل مکہ کے شکست یاب ہونے کی خبر سنی تو
اس کے دل پر ایسا دھکا لگا کہ اس کے سننے سے ایک ہفتہ بعد مرگیا۔ ) مارے گئے جن
میں سے 36 حضرت علی کی
تلوار سے ہلاک ہوئے۔ مشرکین 70 جنگی قیدیوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مسلمان شہداء کی
تعداد 14 تھی۔ جنگ میں فتح کے بعد مسلمان مدینہ میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھرے۔
( البدایہ والنھایہ : 3/256-303، السیرتہالنبویتہ للا مام الذھبی: 1/ 50-60،
زادالمعاد : 3/ 171-188)
جنگ بدر سے فارغ ہوکر آپ ﷺ
22 رمضان المبارک کو مدینہ میں واپس تشریف لاۓ ،
اسی رمضان کی آخری تاریخوں میں صدقہ فطر واجب ہوا۔ عیدین کی نمازیں اور قربانی بھی
اسی سال مقرر ہوئی، اسی سال آپ ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی ام کلثوم کا نکاح
حضرت عثمان بن عفان سے کیااور وہ ذی النورین کہلاۓ۔
اسی سال آپ ﷺ نے اپنی چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمتہ الزہرا کا
نکاح حضرت علی سے کیا۔( تاریخ اسلام ، مولانا
اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 142 )
غزوۂ سویق :
( 2 ھ ماہ ذی الحجہ) جنگ بدر کے دو
مہینے بعد انتقام لینے کےلئے ابوسفیان 200 سوار لیکر مکہ سے نکل
کر مدین تک پہنچا تو آپ کو خبر ہوگئی، مسلمانوں کے آنے کی خبر سنتے ہی لشکر
کفار اپنے ستّوؤں ( سویق ) کے تھیلے ہلکے کرکے بھاگ کھڑا ہوا ۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا
اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 142 )
بنی قینقاع :
بنی قینقاع کے میلہ میں انصار کی ایک
عورت کو ایک یہودی سنار نے چھیڑ ا تھا جس کی وجہ سے ایک انصاری ، عورت کو
مظلوم دیکھ کر حمایت کرنے لگے تو یہودی جمع ہوگۓ اور آپ کو شہید
کردیا، ایک یہودی بھی مارا گیا، تو یہودی مسلح ہوکر حملہ کرنے لگے۔یہ خبر
مدینہ میں آپ ﷺ کو پہنچی، مقابلہ ہوا،
نوبت یہاں تک پہنچی کہ بنی قینقاع جن میں 700 آدمی جنگجو تھے اپنے قلعہ میں محصور
ہوگۓ، لیکن 15 روز کے محاصرہ
کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان قلعہ پر قابض ہوگۓ اور 700 آدمی
گرفتار ہوۓ ، ( ملک عرب کا عام دستور تھا کہ اسیران جنگ بلا دریخ قتل کردیۓ جاتے تھے) اور ان
700 قیدیوں کو یقین تھا کہ یہ ضرور قتل کیے جائیں گے، لیکن عبداللہ بن
ابی سلول جو منافقوں کا سردار ( جو یہودیوں کا ہمدرد اور قریش کا
سازباز ) تھا آپ ﷺ سے سفارشی
ہوا کہ ان یہودیوں کو قتل نہ کیا جاۓ، اور سب کی جان بخشی
کرالی۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 145 )
ہجرت کا تیسرا سال :
625 ء
غزوہ
احد :
(شوال 3ھ )
جنگ بدر کے بعد اہل مکہ کے دلوں میں آتش
انتقام موج زن تھی، دوسرا مدینہ کے یہودیوں اور منافقوں نے ان کو برانگیختہ کرنے
میں کوتاہی نہیں کی، تیسرا یہ کہ ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے جس کے باپ اور بھائی
بدر میں قتل ہوۓ تھے، ابوسفیان کو غیرتیں دلائیں۔ چنانچہ ابو سفیان جو
تمام سرداروں کے جنگ بدر میں قتل ہونے کے بعد مکہ میں سب سے بڑا سردار تھا جنگ کی
تیاریوں میں لگ گیا، امداد کے لئے تمام قبیلوں ( بنو کنا نہ اور اہل
تہامہ اور حبشی غلام ) میں شعراء روانہ ہوۓ۔ اور تمام حلیف قبائل نے
ان کی مدد کی۔ چنانچہ جنگ کی تیاریاں شروع ہوگئی ، رجز خواں مرد اور بہادری
دلانے کے لئے عورتیں، شعراء ( تاکہ راستہ بھر بہادروں کے دلوں میں
لڑائی کا جوش اور شوق پیدا کرسکے) اور بدر کے مقتول سرداران قریش کی لڑکیا اور
بیویاں ( تاکہ اپنے عزیزوں کے قاتلوں کو قتل ہوتا ہوا دیکھیں) بھی ساتھ تھی
، ان تیاریوں میں مدینہ کے یہودیوں اور منافقوں نے خفیہ طور پر ہر قسم کی خبریں
پہنچا کر اور مشورے دیکر قریش کی سب سے زیادہ امداد کی۔ ابوسفیان
کا 3000 کا لشکر مکہ سے مدینہ کے قریب پہنچ گیا۔ (ابوسفیان کی بیوی
ہندہ بنت عتبہ ، جو عورتوں کی سپہ سالار تھی اپنے ساتھ جبیر بن مطعم کا ایک حبشی
غلام " وحشی " اپنے باپ کے قاتل حمزہ کو قتل کرنے کے لئے
لائی جو حربہ چلانا خوب جانتاتھا) لشکر کی خبر ملنے کے بعد 14 شوال جمعہ
کو آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو بلا کر مجلس مشورت منعقد کی جس میں منافق
عبداللہ بن ابی بھی شامل تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ بعد نماز جمعہ مدینہ سے 1000
مجاہدین کے ساتھ روانہ ہوۓ ،
ابھی 2 میل چلے ہوں گے کہ عبداللہ بن ابی سلول اپنے 300 آدمیوں کو لیکر مدینہ کی طرف واپس چلا آیا اور کہہ دیا
کہ ہماری راۓ پر چونکہ عمل درآمد
نہیں ہوا اس لئے ہم مدینہ سے باہر جاکر نہیں لڑیں گے ، لہذا 3000 کفار کے مقابلہ
700 مجاہدین ( جس میں 15 سال کی عمر تک کے لڑکے بھی شامل تھے اور لشکر اسلام میں
صرف دو گھوڑے تھے) تین میل چل کر احد کی پہاڑی کے دامن میں پہنچ گئے ۔
بروز شنبہ (سنیچر) 15 شوال 3
ھ (سنیچر 31 مارچ 625ء)
میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 50 تیر اندازوں کا دستہ عبداللہ بن جبیرانصاری کی
سرکردگی میں ایک ٹیلے پر مقرر فرمایا تھا اور یہ ہدایت دی تھی کہ جنگ کا جو
بھی فیصلہ ہو وہ اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔ جنگ کا آغاز ہوا ، مسلمانوں کے صف شکن حملوں
اور جوان مردانہ شمشیر زنی کے مقابلے میں کفار کے تین ہزار بہادر وں کے پاؤں
اکھڑ گئے ، دوپہر تک کفار پسپا ہوکر پیچھے ہٹتے رہے، اور پھر پشت پھیر کر
فرار ہونے لگے، قریش کی عورتیں دف بجانے ، اشعار گانے والیاں دیکھکر
اپنا سازو سامان چھوڑ کر بھاگ رہی اور بھگوڑوں کے ساتھ شامل ہورہی ہیں،
ابتدا میں مسلمانوں نے کفار کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ٹیلے پر موجود لوگوں نے
بھی یہ سوچتے ہوئے کہ فتح ہو گئی ہے کفار کا پیچھا کرنا شروع کر دیا ۔ خالد
بن ولید جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اس بات کا فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں
پر اپنے 100 سواروں کے ساتھ پچھلی طرف سے حملہ کر دیا۔ اور عبداللہ بن جبیر اس
جگہ شہید ہوگئے ، اس اچانک حملہ نے جو بالکل غیر متوقع طور پر ہوا اور تیر
اندازوں کے جگہ چھوڑدینے کی وجہ سے ہوا، مسلمانوں میں کچھ پریشانی سی پیدا کردی
اور کفار کا تعاقب چھوڑدیا ، مسلمانوں کو اس سےکافی نقصان ہوا لیکن کفار
چونکہ پیچھے ہٹ چکے تھے اس لئے واپس چلے گئے۔ ( 65 انصار اور 4 مہاجرین شہید ہوئے
) اس جنگ سے مسلمانوں کو یہ سبق ملا کہ وہ منافقوں کو خوب پہچان سکے (3:167)اور دوست دشمن میں تمیز
کرنے کے موقعے ان کو مل گئے اور کسی بھی صورت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں۔ ( سورتہ آل عمران 102 ، صحیح بخاری غزوہ
احد، سیرت ابن ہشام 2/64 ، البدایہ والنھایہ :4/13، 4/14 ، زادالمعاد : 3/196 ،
سیرت حلبیہ: 2/72 ، الکامل فی التاریخ: 2/153-154 ، 155-156 ، 2/150)
غزوہ حمراءالاسد : (The Battle of Hamra
al-Assad)
مدینہ پہنچ کر اگلے دن (
شوال سنہ 3 ھ بروز شنبہ / مارچ 625) آپ ﷺ نے کفار سے مقابلہ کے لئے ( حتی کہ
زخمی) نکلے، آٹھ میل چل کر مقام حمراءالاسد میں تین دن مقام کیا۔ وہی ابو
سفیان ہار کو دیکھ کر تمام لشکر کو لے مقام روحا سے واپسی پر آمادہ ہوا کہ مدینہ
پر حملہ آور ہو۔ اسی حالت میں معبد بن ابی معبد مقام روحا میں پہنچا۔ اور
ابوسفیان کو خبر دی کہ آپ ﷺ کا لشکر حمراءالاسد میں ملا تھا اور بہت جلد تم تک
پہنچ جانے والا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی لشکر کفار بد حواس ہوکر وہاں سے سیدھا مکہ
روانہ ہوا۔آپ کو جب یہ تحقیق ہوگیا کہ کفار بدحواسی سے مکہ کی طرف بھاگے چلے جارہے
ہیں تو آپ واپس مدینہ تشریف لے آۓ،
اس کے ذریعے کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب قائم ہوا اور مدینہ ان کے حملے سے
محفوظ رہا۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 155)
ہجرت
کا چوتھا سال :
غزوۂ
بنو نضیر : ( ماہ ربیع الاول سنہ 4 ھ/ اگست 625ء /
جنگ احد سے 6 مہینہے بعد / سورۂ حشر اسی غزوہ میں نازل ہوئی )
غزوۂ
ذات الرقاع :( Expedition of Dhat al-Riqa)
(
ماہ جمادی الاول سنہ 4 ھ / اکتوبر 625ء ) بنو محارب اور بنو ثعلبہ کی شرارت
اور حملہ کی تیاریوں کی خبر سن کر آپ ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان کے
ساتھ 400 صحابہ مقابلہ کے لئے
نخلستان میں جمع ہوۓ ،
اسلامی لشکر دیکھ کر سب منتشر ہوکر
بھاگ گئے ۔ کوئی معرکہ نہیں ہوا ۔ (ذات الرقاع اس کا نام اس لئے
رکھا گيا کہ پہاڑی اور پتھریلی زمین میں سفر کرنے سے صحابہ کرام کے
پاؤں زخمی ہوگئے تھے جس کی وجہ سے غازیوں نے پاؤں میں کپڑے لپیٹ لۓ تھے۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا
اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 160)
غزوہ
بدر ثانی/غزوہ بدر موعد : ( رجب سنہ 4 ھ )
غزوہ
ذات الرقاع کے 3 ماہ بعد / غزوہ احد میں ابوسفیان سے ایک سال کے بعد
جنگ کا واعدہ ) آپ ﷺ دیڑھ ہزار
صحابہ کے لشکر کے ساتھ بدر کی جانب روانہ ہوۓ، ( علم حضرت علی کے
پاس، فوج میں 10 گھوڑے)۔ اور ابوسفیان دو ہزار کے جرار لشکر ( 50 سوار )
لیکر مقام عسقان میں پہنچا تھا کہ خبر ملی کہ اسلامی لشکر میں دیڑھ ہزار
جانباز ہیں ( اہل مکہ بدر اور احد میں دیکھ چکے تھے کہ تہائی اور چوتھائی تعداد کے
مسلمانوں سے بھی ان کو شکست کھانی پڑی تھی ) اگر چہ مسلمان تعداد میں صرف (
¾) ہے کفار کے اوسان خطا ہوگئے اور مقام عسقان ہی سے کہہ کر مکہ
واپس چلے گئے کہ ہم قحط سالی کے ایام میں جنگ نہیں کرتے۔ بھاگ گئے۔ آپ ﷺ 8 دن تک کفار کے
منتظر رہے معبد بن ابی معبد خزاعی نے خبر دی کہ ابوسفیان مقام عسقان
سے مکہ لوٹ گیا۔( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول
161)
اسی
سال شراب حرام ہوئی، اسی سال حضرت حسین بن علی پیدا
ہوۓ، اسی سال آپ ﷺ نے عبدالسلام مخزومی کی وفات کے
بعد ان کی بیوی ام سلمہ سے
نکاح کیا۔رمضان میں حضرت زینب بنت خزیمہ ( ام المساکین ) سے نکاح (جو دو یا تین
ماہ زوجیت میں رہی ) .شوال 4ھ میں
حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ سے شادی
.
ہجرت
کا پانچواں سال :
غزوہ دومتہ الجندل : (
آغاز ماہ ربیع الاول سنہ 5 ھ)
آپ ﷺ کو دومتہ الجندل
کے حاکم اکیدربن الملک ( عیسائی) کے لشکر عظیم کا مدینہ پر حملہ کرنے کی
اطلاع ملی تو آپ ﷺ ایک ہزار مسلمانوں کی جمعیت لیکر دومتہ الجندل روانہ ہوۓ۔
لشکر اسلام کے یکایک قریب پہنچنے سے اکیدرالملک سراسیمہ ہوکر فرار ہوگیا۔ اس
طرح سرحد شام پر مسلمانوں کا رعب قائم ہوگیا۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا
اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 163)
غزوہ بنی المصطلق: ( شعبان 5 ھ )
آپ ﷺ کو مسلمانوں پر
بنو المصطلق کے سردار حارث بن ضرارکی جنگ کی تیاری کی خبر ملی تو آپ ﷺ لشکر
اسلام ( 30 گھوڑے ) کے ساتھ روانہ ہوۓ ۔
طرفین سے حملہ آوری ہوئی اور کفار کا علم بردار ، حضرت ابو قتادہ کے ہاتھ سے
مارا گیا ، تو کفار میدان چھوڑ کر مسلمانوں کے سامنے سے بھاگ گئے ، جو آدمی
( ان میں سپہ سالار حارث کی بیٹی جویریہ ،
بعد میں آپ ﷺ نے حضرت جویریہ کی منشا کے موافق اور حارث
کی رضامندی سے جویریہ کے ساتھ نکاح کرلیا ) گرفتار ہوۓ اور
بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ ( چونکہ متوا تر حملوں میں مسلمان کامیاب ہوۓ تھے
لہذا مال غنیمت کی طمع میں عبداللہ بن ابی بھی اپنی جماعت منافقین کے ساتھ شریک
ہوا تھا) اسی غزوہ میں منافقوں نے انصار ومہاجرین کے سوال ابھارے ، حضرت عائشہ پر
بہتان باندھے( واقعہ افک اور آل ابوبکر پر غم و دکھ ) (نتیجہ آپ دیڑھ
ماہ اپنے والد کے یہاں رہی اور مسلمانوں کو آپ کی عصمت و عفت اور
مظلومی کا یقین ہوگیا۔ ایک مہینے کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے ان کی پاک
دامنی و بے گناہی کا حکم نازل ہوا اور اللہ تعالی نے صدیقہ کے
صدیقہ ہونے کی گواہی دی اور منافق بھی حضرت مریم پر بہتان باندھنے والوں کی طرح
خائب و خاسر ہوۓ ۔ اور حضرت حمنہ
بنت جحش رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ جو
افک کی اشاعت میں اگے اگے تھی ان پر حد
قذف لگا دی . ( سیرت ابن ہشام: 2/289 ، البدایہ والنھایہ ؛
4/156) ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 165)
625ء
نواسہ
رسول ، جگر گوشہ تبول سیّدنا حضرت حسن بن علی بن ابی طالب رضی
اللہ تعالٰیٰ عنہ
پیدائش
: ( 15 رمضان 3 ھ / 1 اپریل 625 ء مدینہ
منورہ )
وفات
: ( ماہ ربیع الاول 50 ھ
جنت البقیع حضرت فاطمہ کے پہلو میں مدفون (
زمانہ
خلافت : 20 رمضان 40 ء سے 15 جمادی الاول 41ء (7 ماہ 26
دن) آپ نےربیع ا لاول سنہ 41 ھ میں خلافت امیر معاویہ کے سپردکردی
تھی۔
حافظ
ابن عبدالبر اور المسعودی کا بیان ہے کہ آپ کو کئ دفعہ زہر دیا گیا اور زہر
دینے سے وفات ہوئی لیکن حافظ ابن حجر نے خیال ظاہر کیا کہ آپ کی وفات زہر سے نہیں
بلکہ کسی اور علالت سے ہوئی(الاصابہ) ) ( 491) ۔ آپ کے 9 بیٹے اور 6 بیٹیاں
کل 15 اولاد تھیں ۔ (تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی جلد ١،497)
626ء
شہید کربلا ، نواسہ رسول ، جگر گوشہ
تبول سیّدنا حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالٰیٰ
عنہ
پیدائش : ( 3 شعبان 4ھ / 8 جنوری
626ء ( حضرت حسن سے 11 ماہ بعد) مدینہ منورہ )
627
ء / 5 ھ
غزوہ
خندق (احزاب): ( ذی
القعدہ 5 ھ / مارچ 627ء)
(The Battle of the Trench)
بنو
نضیر کے سردار ( حیی بن اخطب ، سلام بن ابی الحقیق ، سلام بن مشکم ، کنانہ بن
الربیع وغیرہ) اور سردارارن بنو وائل ( ہود بن قیس و ابو عمارہ
وغیرہ ) متحد ہوکر مکہ میں، قبائل قریش ( بنو سلیم ، فزارہ ، اشجع، بنو سعد اور
بنو مرہ وغیرہ ) اور غطفان قبائل ( سردار عینیہ بن حصین ) جن کی تعداد
50 سے کم نہ تھی ، خانہ کعبہ میں جاکر قسمیں کھائیں کہ جب تک زندہ ہیں
مسلمانوں کی مخالفت سے منہ نہ موڑیں گے اور اسلام کی بیخ کنی میں کوئی دقیقہ
فروگزاشت نہ ہونے دیں گے، ابوسفیان سپہ سالار اعظم قریش اپنے ہم عہد قبائل
کا 4 ہزار کا لشکر لےکر مکہ سے مقام مرالظہر آیا۔ تمام قبائل راستے میں آآکر
اس لشکر میں شامل ہوتے گئے اور مدینہ کے قریب پہنچ کر تمام حملہ آور
فوج کی تعداد بروایت مختلفہ کم سے کم 10 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 24 ہزار تھی ( جس
میں ساڑھے چار ہزار ( 4500) اونٹ اور 300 گھوڑےتھے)۔ خبر ملنے پر آپ ﷺ نے مجلس
مشاورت منعقد کی، حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد
گرد ایک خندق کھود ی گئی ( خندق 5 گز چوڑی اور 5 گز گہری ) ۔ لشکر کفار خندق کے
سامنے آیااور مدینہ کا محاصرہ کرلیا، یہ حملہ کفار کی طاقت و شوکت کا انتہائی
نظارہ اور اسلام کے مقابلے میں کفر کی گویا سب سے بڑی کوشش تھی۔ کفار کی خندق کو
کئی مرتبہ عبور کرنے کی کوشش ہوئی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے، دوسرا منافقین و یہود
کا بھی اندرونی ( مدینہ) ڈر تھا، تیسرا مسلمانوں کے پاس سامان رسد بھی میسر
نہ تھا ، فاقوں پر فاقے جاتے تھے ( یہی وہ غزوہ ہے جس میں آپ ﷺ نے اپنے پیٹ پر دو
پتھر باندھے تھے، ، غور کرنے کی بات ہے یہی وہ غزوہ ہے جس میں 24 ہزار کفار
کے جرار لشکر کے مقابلے میں مٹھی بھر مسلمان اپنی حفاظت اور جان بچانے کی تدبیروں
میں مصروف ہیں، بظاہر بربادی پیش نظر ہے اور جبرائیل امین ایران ، روم اور یمن کے
ملکوں کی سلطنت و حکومت کی خوش خبری سنارہے ) ، ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے
کئی افراد کے قتل کے بعد مشرکین پر ایک روز رات کو تیز وتند ہواچلی، ان کے
خیموں کی میخیں اکھڑ گئیں، چولہوں پر دیگچیاں گر گئیں جابجا اپنے ڈیروں میں آگ گل
ہونے کو بد شگونی سمجھ کر کفار راتوں رات ڈیرے خیمے اٹھا کر فرار ہوگئے
، اور آپ ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم کردیا گيا کہ کفار بھاگ
گیا۔( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 168)
ام
المومنین ام حبیبہ بنت ابی
سفیان کے ساتھ نکاح ( حضرت امر
معاویہ مومنوں کے ماموں ) حبشہ میں نجاشی
نے نکاح پڑھوایا تھا .نبی علیہ السلام کا
حضرت زینب بنت جحش سے ماہ زی قعدہ میں
نکاح ( آپ صلم کی پھوپھی امیہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی ) جو پہلے آپ صلم
کے غلام زید بن حارثہ کے نکاح میں تھی ) (
سورہ احزاب (33:37)
اس کے بعد حجاب کی آیات نازل ہوئی (33:53)( تاریخ ابن کثیر حصہ چہارم
صفہ 548)
غزوہ
بنی قریظہ:
ذی
القعدہ ۔ ذی الحجہ 5ھ (اپریل 627ء)
بنو قریظہ کی بدعہدی ( بنو قریظہ کا سردار کعب بن اسد تھا لیکن حیی بن اخطب
جنگ خندق سے فرار ہوکر بنو قریظہ آیا تھا اور ان کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے اور
مقابلہ کرنے پر خوب آمادہ کر رہا تھا ) ، نتیجہ مقدمتہ الجیش کے طور پر حضرت
علی نے
بنو قریظہ کے قلعہ کے قریب پہنچ کر قلعہ کا محاصرہ کیا جو 25 دن تک قائم رہا،
چونکہ مسلمانوں سے مقابلہ نہیں کرسکتے تھے تو آپنے آپ کو آپ ﷺ کے سپرد
کردیا ۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 170) (سیرت
ابن ہشام:2/220-223)
ذی الحجہ سنہ 5 ھ :
1) حضرت
ابو عبیدہ بن الجراح بحکم رسول مقبول ﷺ سیف الجر کی طرف
300 مہاجرین کے ساتھ روانہ ہوۓ کہ وہاں قبیلہ جہنیہ کے اندیشہ ناک خبریوں
کے حالات کی تفتیش کریں۔
2) محمد
بن مسلمہ 30 آدمیوں کی جمعیت کے ساتھ بنی کلاب کی طرف روانہ ہوۓ کیونکہ بنی کلاب کے
نسبت خبر پہنچی کہ وہ عذر کا ارادہ رکھتے ہیں۔
3) عکاشہ
بن محصن مکہ کی جانب تفتیش حالات کے لۓ روانہ
ہوۓ۔
4) ایک
مختصر گروہ نجد کی جانب بھیجا گياجو شمامہ بن آثال کو گرفتار کرکے لایا گيا،
آپ نے صدق دل سے اسلام قبول کیا۔
( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد
اول 172 )
ہجرت کا چھٹا سال :
628 ء
بیت الله کی زیارت (عمرہ ) کے ارادے
روانہ ہوئے، کنوے میں سے پانی کے ابلنے کا معجزہ اور بیت رضوان، فتح مبین ، حج کی فرضیت (2:196 ) :
صلح حدیبیہ : (
فتح مبین) ( ماہ ذیقعدہ سنہ 6 ھ ) (Treaty of Hudaybiyyah)
آپ ﷺ نے ماہ شوال
سنہ 6 ھ میں خواب دیکھا کہ آپ ﷺ ، اصحاب کے
ساتھ خانہ کعبہ میں داخل ہورہے ہیں تو آپ ﷺ نے عمرہ ( زیارت کعبہ ) کا
عزم فرمایا۔ ماہ ذیقعدہ سنہ 6 ھ میں آپ ﷺ ایک ہزار چار سو صحابہ کرام کے
ساتھ مدینہ سے مکہ روانہ ہوۓ۔
عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی کے 70 اونٹ ہمراہ لئے ۔( اہل عرب شرک و بت پرستی
میں مبتلا تھے لیکن خانہ کعبہ کی عظمت کو سب تسلیم کرتے اور حج کے ایام میں لڑائی
ملتوی کی جاتی تھی ، آپ ﷺ کے احرام اور قربانی کے اونٹ اس
بات کی علامت تھی کہ آپ ﷺ جنگ کے ارادے سے نہیں نکلے تھے) مقام ذی
الحلیفہ میں پہنچے تو جاسوس نے مقام عسقان میں واپس آکر اطلاع دی کہ قریش نے
آپ ﷺ کی آمد کا حال سن کر بڑک زبردست جمعیت مقابلہ کے لئے فراہم
کرلی ہے ، حضرت ابو بکر کی راۓ سے
مقام عسفان سے مقام حدیبیہ کے کنوئیں پر پہنچ کر قیام کیا۔ جب مکہ والوں نے
بنو ثقیف کے سردار عروہ بن مسعود کو آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو
آپ ﷺ نے عروہ سے کہا کہ ہم لڑائی کے ارادے سے نہیں بلکہ عمرے کے
ارادے سے آۓ ہیں لیکن مکہ والے
لڑائی پر آمادہ ہیں تو میں لڑونگا، لیکن اگر مکہ والے ایک مدت کے لئے مجھ سے
التواء جنگ کا معاہدہ کرسکتے ہیں۔ چنانچہ قریش مکہ نے عروہ کی بات سن کر
سہیل بن عمرو کو اپنا مختار کل بنا کر بھیجا اور اس کو سمجھا دیا کہ امسال محمد مع
اپنے ہمراہیوں کے واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آکر عمرہ کریں ، سہیل نے شرائط صلح
پیش کی تو آپ ﷺ نے ان شرائط کو قبول فرمالیا۔ صلح نامہ کی تکمیل کے بعد
آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں نے حدیبیہ کے مقام پر قربانیاں کی، احرام کھولے
اور حجامتیں بنوائیں، جب آپ ﷺ حدیبیہ سے مدینہ واپس آرہے تھے تو راستے
میں سورۂ فتح نازل ہوئی، اور اللہ تعالی نے اسی صلح کو جسے صحابہ کرام ایک
قسم کی شکست سمجھ رہے تھے فتح مبین قرار
دیا۔ اسلام جس قدر امن و امان کی حالت میں اپنا دائرہ وسیع کرسکتا ہے لڑائی اور
جنگ و جدل کی حالت میں اس قدر نہیں پھیل سکتا۔ اسی لئے صلح حدیبیہ کے بعد
صرف دو برس کے عرصہ میں مسلمانوں کی تعداد دوگنی ہوگئی تھی۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا
اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 179) ( سیرت ابن ہشام : 2/277-278 ،
2/370)
آج اشتراکی اور سامراجی طاقتیں اس کی نقل کرنے میں کوشاں ہیں ۔
لیکن اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک کہ وہ اپنے بنیادی اصولوں میں تبدیلی
کرنے کو تیار نہیں ہوتیں۔ (اسلامی طریقہ جنگ 17)
آپ ﷺ صلح حدیبیہ سے
واپس ہوکر ماہ ذی الحجہ میں مدینے پہنچے اور محرم سنہ 7 ھ تک مدینے میں قیام
فرمارہے۔
ہجرت کا ساتواں سال :
غزوہ
خیبر: ( محرم 7ھ / مئی 628ء)
یہود کے تقریبا تمام
طاقتور قبائل مسلمانوں کے خلاف برانگیختہ کرنے میں مصروف رہے خیبر کے علاقہ
میں مسلمانوں کی بیخ کنی اور مدینہ پر حملہ آوری کی خبر سنکر آپ ﷺ نے
محرم سنہ 7 ھ میں 1500 صحابہ کرام کے ساتھ جن میں 200 سوار تھے
مدینہ سے خیبر کے قریب پہنچ کر خیبر اور بن غطفان کے درمیان مقام رجیع کو لشکر گاہ
تجویز فرمایا، میدان جنگ میں یہودیوں نے مسلمانوں کا مقابلہ دشوار سمجھا تو قلعہ
بند ہوجانا مناسب سمجھا،لشکر اسلام نے یکے بعد دیگرے قلعوں پر حملہ کیا ، آخر میں
وطیع اور سلالم دو قلعے باقی رہ گئے ، ان دونوں کا 10 دن تک محاصرہ کیا گيا تو
محصور یہودی محاصرہ کی شدت سے تنگ آگئے اور آپ ﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم
نصف پیداوار بطور مال گزاری لینے کی شرط پر اگر ہماری زمینوں پر قابض رکھا جاۓ تو
ہم اطاعت قبول کرتے ہیں، خیبر کی جنگ میں 15 مسلمان شہید ہوگئے اور 93
یہودی مارے گئے ۔قیدیوں میں آپ صلم نے
حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب
کو آزادی کا مہر عطا
کر پسند کیا .
اسی جنگ میں گھوڑے کے گوشت کو مسلمانوں کے لئے حرام قرار دیاگيا، اسی جنگ میں
متعہ کو ہمیشہ کے لئےحرام کیا گيا، (زادالمعاد: 3/
355)
خیبر سے واپس مدینہ پہنچ کر
آپ ﷺ نے تمام قبائل کی طرف جو مسلمانوں کی بیخ کنی کی کوششوں میں لگے ہوۓ تھے،
ایک ایک دستہ فوج ادب آموذی اور رعب قائم کرنے کے لئے روانہ کیا تاکہ
بڑی بغاوت اور خطرناک سازش سرسبز نہ ہونے پاۓ۔
چنانچہ
1) نجد
کے قبیلہ فزارہ کی جانب حضرت ابوبکر صدیق ،
سلمہ بن الاکوع اور دوسرے صحابہ کے ہمراہ روانہ کیے گئے ۔
2) قوم
ہوازن کی طرف حضرت عمر فاروق کو 30 ہزار سواروں کے ساتھ روانہ کیا گیا۔
3) حضرت
عبداللہ بن رواحہ کو 30 ہزار شتر سواروں کی ہمراہ بشیر بن دارم
یہودی کی گرفتاری کے لۓ بھیجا گیا جو خیبر کے
یہودیوں کو بغاوت پر آمادہ کررہا تھا۔
4) بشیر
بن سعد انصاری 30 سواروں کے ساتھ بنی مرہ کی سرکوبی کے لۓ روانہ
کۓ گۓ۔
5) حضرت
اسامہ بن زید کو ایک جماعت کے ساتھ قوم بنی الملوح کی تادیب
کے لۓ بھیجا گیا۔
6) حضرت
ابی درداء سلمی کو صرف 3 آدمیوں کے ساتھ قبیلہ جشم بن معاویہ کی سردار رفاعہ
بن قیس کی سرکوبی کے لۓ روانہ کیا۔
7) حضرت
ابوقتادہ اور محلم بن جشامہ کو مقام النعم کی طرف روانہ کیا گیا۔
یہ تمام فوجی دستے کامیاب و فتح مند واپس ہوۓ۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا
اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 184)
تبلیغی خطوط :
محرم 7ھ میں حضور صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے ملک عرب اور بیرونی ممالک کے مختلف حکمرانوں کو خطوط لکھے اور
اپنے سفیروں کو ان خطوط کے ساتھ بھیجا۔ ان خطوط میں اسلام کی دعوت دی گئی۔ ان میں
سے ایک خط ترکی کے توپ کاپی نامی عجائب گھر میں موجود ہے۔ ان حکمرانوں
میں ایک
( 1) خط حبشہ کا بادشاہ
نجاشی ،
( 2) مشرقی روم (بازنطین) کا
بادشاہ ہرقل ،
( 3) ایران کا بادشاہ کسری
،
(4) مصر اور اسکندریہ کا
حکمران مقوقس اور
(5) غسانی بادشاہ بن
شمر شامل ہیں۔
پرویز نے یہ خط پھاڑ دیا تھا
اور بعض روایات کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیشینگوئی کی تھی کہ اس
کی سلطنت اسی طرح ٹکرے ٹکرے ہو جائے گی۔ نجاشی نے حضور صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی اور کہا کہ ہمیں انجیل میں ان کے بارے میں بتایا گیا
تھا۔ مصر اور اسکندریہ کے حکمران مقوقس نے نرم جواب دیا اور
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کچھ تحائف روانہ کیے (الکامل فی
التاریخ 2/ 210) ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد
اول 185)
مکہ میں ورود : ( ماہ ذیقعدہ، سنہ 8 ھ )
آپ ﷺ نے تمام صحابہ کرام کو سفر کی تیاری کا حکم دیا، کل دو ہزار آدمی عمرہ ادا کرنے
کے لئے مدینے سے
مکہ روانہ ہوۓ، مکہ پہنچ کر آپ ﷺ نے مسلمانوں کو احرام پہننے اور
بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا، اور 3 دن تک مکہ میں مقام کیا، اور مدینہ
واپس آگئے ۔
قریش کے تین سردار عمرو بن العاص ، خالد
بن ولید اور دوست عثمان بن طلحہ مکہ سے روانہ ہوکر مدینہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں
حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے ، جس سے اسلام کو بڑی تقویت پہنچی۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول
187)
آپ صلم نے حضرت
میمونہ سے حالت احرام میں نکاح کیا تھا
، آپ صلم
زی الحج کے مہنے میں ہی مدینہ واپس
چلے اے اور 7ھ کے حج کا ہتمام مشرکوں نے کیا . اس عمرہ
قضا کے بارے قرآن48:27)) آیات نازل ہوئی تھی .
ہجرت کا آٹھواں سال :
منافقین مدینہ، یہودان
خیبر، مشرکین مکہ، تینوں دشمنوں نے ملک عرب کے اندرونی قبائل کو مسلمانوں کے خلاف
ابھار ابھار کر ہر مرتبہ میں ناکامی و نامرادی دیکھی تو اب انہوں نے ایران و روم
کی شہنشاہیوں اور ایران و رومی سرداروں کو مسلمانوں کے خلاف برانگیختہ کرنے کی
کوشش اور سازشیں شروع کیں۔
جنگ موتہ: ( جمادی
الاول 8ھ / 629ء) (عیسائیوں (قیصرروم) اور مسلمانوں کے
درمیان پہلی لڑائی )
آپ ﷺ نے جو تبلیغی
خطوط حارث بن عمیرازدی کے ہاتھوں حاکم بصری کے نام روانہ کیا تھا لیکن بصری تک نہ
پہنچے تھے کہ سرحد شام کے قریب مقام موتہ میں پہنچنے پا تھے کہ وہاں کے حاکم شرجیل
بن عمر غسانی نے ( جو قیصر روم کی طرف سے علاقہ کا صوبہ دار تھا) حارث کو گرفتار
کرکے شہید کردیا، حارث بن عمیر کے بلاوجہ قتل ہونے کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو
آپ ﷺ نے ایک مہم اس سرکش غسانی سردار کی سرکوبی کے لئے
زیدبن حارث کی سرداری
میں تین ہزار اسلامی لشکر موضع حرق روانہ کیا۔ حضرت زیدبن حارث اپنے لشکر کو لے مقام معان تک پہنچے کہ خبر ملی کہ حاکم
موتہ شرجیل بن عمرو نے مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے ایک لاکھ جرار فوج فراہم کررکھی اور موتہ سے تھوڑی دور
پیچھے وادی بلقاء میں خود قیصر روم خیمہ زن ہے۔ اس خبر کو سن کر لشکر اسلام میں
آثار فکر و تردو نمایاں ہوۓ، حضرت عبداللہ بن رواحہ نے بلند آواز سے لوگوں کو اپنی طرف مخاطب کرکے کہا۔ ۔ ۔ ۔
" تم لوگ شہادت کی جستجو میں نکلے
ہو۔ کفار سے ہم گنتی یعنی اعداد و شمار اور قوت کے ذریعہ نہیں لڑتے بلکہ ہم اس
دین کے ذریعے لڑتے ہیں جس سے اللہ نے ہم کو مشرف کیا ہے۔ پس مقام موتہ اور
لشکر ہرقل کی طرف پیش قدمی کرو اور اپنے لشکر کا میمنہ اور میسرہ درست کرکے کفار
کا مقابلہ کرو۔ اس کا نتیجہ ان دو نیکیوں سے خالی نہ ہوگآ، یا تو ہم کو فتح حاصل
ہوگی یا شہادت میسر ہوگی۔"
حضرت عبداللہ بن روحہ کا یہ بہاردانہ کلام سن کر حضرت زید بن حارث ایک ہاتھ میں نیزہ، دوسرے میں جھنڈا لیکر اٹھ کھڑے ہوۓ، جوش اور شہادت کے شوق میں
لشکر اسلام مقام معاون سے روانہ ہوۓ، مشارف نامی گاؤں سے کتراکر مقام موتہ بڑھے میدان
موتہ میں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔ زیدبن حارث علم ہاتھ میں لیے قلب لشکر کے سامنے سب کے آگے آگس تھے، آپ لڑتے اور کفار کو قتل کرتے ہوۓ بہت آگے
بڑھ گئے ، کفار نے چاروں طرف سے گھیرلیا اور شہید کردیا، حضرت جعفر نے بہت کفار کو قتل کیا آخر آپ کا گھوڑا زخمی ہوکر گرا تو
پیادہ دشمنوں پر ٹوٹ پڑے، بالآخر ان کا دایں ہاتھ کٹ کر الگ جاپڑا، مگر انہوں نے
بائیں ہاتھ سے جھنڈے کو سنبھالے رکھا جب بایاں ہاتھ کٹ گیا تو گردن سے علم کو لگا
کر سینے سے سنبھالے رکھا، یہاں تک اسی حالت میں شہید ہوگئے( نوے سے زائدتیر و
تلوار کے زخم) ، ان کی شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ نے آگے بڑھ کر علم اپنے ہاتھ میں لے لیا، تھوڑی دیر لڑکر یہ
بھی شہید ہوگئے اور رایت
اسلام گر گیا، مسلمانوں میں آثار پریشانی ہویدا ہوۓ، حضرت ثابت بن اقرم نے جھٹ آگے بڑھ کر علم اٹھا لیا اور بلند آواز سے کہا۔ ۔
۔
" مسلمانوں! کسی ایک شخص کے امیر بنانے میں
موافقت کرلو ۔ "
لشکر یان اسلام کی طرف سے متفقہ آواز بلند ہوئی کہ (
رضینابک ) "ہم لوگ تمہاری امارت سے راضی ہیں " ثابت بن اقرم نے جواب دیا ۔۔۔ ۔
ماانا بفاعل فاتفقھو اعلی خالد بن الولید " میں یہ
کام نہ کر سکوں گا، تم خالد بن ولید کی سرداری تسلیم کرلو۔ "
لشکر اسلام کی طرف سے فورا آواز بلند ہوئی، " ہم
کو خالد بن ولید کی سرداری
منظور ہے۔ یہ سنتے ہی خالد بن ولید نے فورا آگے بڑھ کر ثابت بن اقرم کے ہاتھ سے علم لے لیا
اور رومی لشکر پر حملہ آور ہوۓ، ابھی تک رومی لشکر غالب اور مسلمان مغلوب نظر آتے تھے، لیکن
خالد نے علم ہاتھ میں لیتے
ہی مسلمانوں کو چپقلش مردانہ پر ازسر نو آمادہ کردیا، پھر اس خوبی سے دشمنوں کے
لشکر پر پے درپے حملے کۓ کہ رومیوں کے چھکے چھوٹ گۓ۔ خالد بن ولید بجلی کی طرح میدان جنگ میں کوندرہے تھے، غرض صبح سے
شام تک خالد بن ولید نے اپنے
تین ہزار غازیوں کو رومیوں کے ایک لاکھ لشکر جرار سے لڑایا۔ جب شام ہونے کو آئی تو
رومیوں نے مسلمانوں کے مقابلے سے فرار کی عار گوارا کی اور بے اوسان ہوکر بھاگے۔ (
اس لڑائی میں 12 صحابی شہید ہوۓ)
لڑائی کے وقت آپ ﷺ کو الہام الہی کے ذریعے تمام حالات جنگ کی اطلاع ہوئی،
اور آپ ﷺ نے اسی وقت تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور منبر پر چڑھ کر فرمایا۔ ۔
۔ ۔ " تمہارے لشکر کی خبر یہ ہے کہ انہوں نے دشمنوں کا مقابلہ کیا، زید ، جعفر ، اور عبداللہ بن رواحہ شہید ہوۓ ، اللہ نے ان کو بخش دیا اور یہ سب کے سب جنت میں اٹھال لئے گئے اور تخت زریں پر
متمکن ہیں۔ ان تینوں کے بعد اسلامی جھنڈے کو ( سیف من سیوف اللہ ) یعنی خالد
بن ولید نے لیا اور لڑائی کی بگڑی ہوئی حالت کو سنبھالا۔ اسی روز سے
خالد بن ولید
" سیف اللہ " کے نام سے پکارے جانے لگے ۔ (
تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 191) ( صحیح بخاری ، باب غزوہ الموتہ، زادالمعاد 3/381-385)
حضرت خالد بن ولید
خالد بن ولید 592 ء میں مکہ میں
قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو
مخزوم کے سردار ولید بن مغیرہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ بنی مخزوم کی وجہ شہرت جنگ و جدل تھا۔ وہ شروع میں
مسلمانوں کے مخالفین میں سے تھے اور احد
کی جنگ کا پانسہ مسلمانوں کے خلاف
پلٹنے میں ان کا اہم کردار تھا۔ صلح
حدیبیہ کے بعد مدینہ میں محمد صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اسلام قبول کیا اور بقیہ زندگی اسلام کے
لیے وقف کر دی۔
خالد بن ولید (خالد بن ولید بن المغیرۃ المخزومی) حضرت محمد صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سپہ سالار اور ابتدائی عرب تاریخ
کے بہترین سپاہی تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کے بعد انھوں نے
ریاست مدینہ کے خلاف ہونے والی بغاوتوں کو کچلنے میں اپنا کردار ادا
کیا۔ اس کے بعد خالد بن ولید نے ساسانی اور بازنطینی سلطنتوں
کو شکست دیکر نہ صرف مدینہ کی چھوٹی سی ریاست کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل کردیا۔
بلکہ پہلے درجہ کے عالمی فاتحین میں بھی اپنے آپ کو شامل کرالیا۔
خالد بن ولید نے 125 کے قریب جنگوں میں حصہ لیا اور کسی میں بھی شکست
نہیں کھائی۔ وہ پیدائشی جنگجو سپاہی تھے۔ انہوں نے عربوں کے لیے جن علاقوں کو فتح
کیا وہ اب بھی ان کے پاس ہیں۔ جبکہ باقی عالمی فاتحین نپولین، چنگیز
خان، تیمور اور ہٹلر نے جو علاقے فتح کیے وہ ان کی زندگی میں ہی یا بعد میں
ان سے چھن گئے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ موتہ میں
ان کی بے مثل بہادری پر انھیں سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا۔
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی
اللہ عنہم اجمعین عرب نے چھوٹے چھوٹے عرب قبیلوں کو ایک جتھے میں
بدل دیا۔ اور قبائلی جنگوں میں ضائع ہونے والی ان کی توانائیوں کو ایک سمت دے کر
ایک ایسے زبردست طوفان میں تبدیل کر دیا جس نے جلد ہی پورے مشرق وسطی کو
اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس علاقے اور دنیا کی
تاریخ بدل کر رکھ دی اور اسی صحرائی طوفان کا عنوان تھے خالد بن ولید ۔
مسلمانو ں میں یہ تاثر عام پیدا ہو گیا تھا کہ خالد بن ولید ہر جنگ کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ اس پر خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی
اللہ عنہ نے انھیں سپہ سالاری کے درجے سے ہٹادیا کہ فتح اللہ تعالٰیٰ کی
مدد سے ہوتی ہے اور امیر کی اطاعت خالد بن ولید کے کردار کا اہم حصہ تھا۔ انھوں نے
اسے بخوشی قبول کیا۔
خالد بن ولید کو اپنے انتقال سے پہلے اس چیز کا بہت افسوس تھا کہ وہ
میدان جنگ کے بجائے بستر پر اپنی جان دے رہے ہیں۔ وہ 642ء میں شام کے شہر حمص میں
وفات پاگئے۔ ان کی قبر مسجد جامعۃ خالد بن ولید کا حصہ ہے۔ اپنی وفات پر انھوں نے خلیفۃ الوقت عمر فاروق رضی
اللہ عنہ کے ہاتھوں اپنی جائیداد کی تقسیم کی وصیت کی۔( تاریخ
اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 190)
جنگ قضاعہ :
جنگ موتہ کے ایک ماہ بعد مدینے میں خبر پہنچی کہ سرحد شام
کے قریب قبیلہ قضاعہ نے مدینہ پر حملہ آوری کے لۓ لشکر جمع
کیا ہے تو آپ ﷺ نے حضرت عمرو بن العاص کو 300 مہاجرو انصار کے لشکر کا امیر بنا کر روانہ کیا۔
دشمن کی جمعیت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے قاصد مدینہ بھیجا، آپ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ
بن الجراح کو کمک
دیکر روانہ کیا تو آپ کے پہنچنے پر لشکر اسلام حملہ آور ہوا۔ دشمن تاب مقاومت نہ
لاسکا اور اور ان کا تمام لشکر منتشر ہوگیا، اور لشکر اسلام صحیح سالم مدینہ
میں واپس آیا۔( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد
اول 192)
قبیلہ جہینہ :
مدینہ سے 5 منزل کے فاصلے پر ساحل سمندر کے قریب قبیلہ
جہینہ نے غدرو سرکشی اور مدینہ پر حملہ آوری کے سامان جمع کۓ آپ ﷺ کو
سنہ 8 ھ میں معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے حضرت عبیدہ بن الجراح کو تین سو مہاجر وانصار کے ساتھ روانہ کیا۔ یہ مہم بغیر کسی
مقابلہ اور مقاتلہ کے واپس آئی اور دشمنوں پر اس مہم کی خبر ہی سن کر ہیبت
طاری ہوگئی۔( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد
اول 192)
629ء
بھارت کے صوبہ کیرالہ میں تعمیر شدہ چیرامن مسجد ، بھارت کی
پہلی جامع مسجد ہے۔
بھارت میں مالابار کی موپلا قوم نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ عربوں اور ماپلاؤں کے
درمیاں بہترین تعلقات تھے۔
630 ء
فتحِ مکہ: ( قریش کی عہد شکنی )
حدیبیہ میں 10 سال کے لئے صلح ہوئی تھی لیکن ماہ شعبان سنہ 8 ھ میں بنو بکر
مع سرداران قریش (صفوان بن امیہ، عکرمہ بن ابو جہل، سہل بن عمرو ) نے بنو خزاعہ پر
اچانک رات کے وقت حملہ کیا اور 20 یا 30 آدمی مارے گۓ، اور اس معاہدہ صلح کی
ظالمانہ طور پر دھجیاں اڑائی گئی جس کی وجہ سے بنو خزاعہ کے لوگوں نے قریش کی
بدعہدی کی خبر آپ ﷺ کو دی ، مکہ والوں کو جب اپنے کرتوت کے نتائج پر غور کرنے کا
موقع ملا تو وہ بہت خائف ہوۓ اور ابوسفیان کو مدینہ روانہ کیا، لیکن ابو
سفیان کو مدینہ سے ناکام واپس جانا پڑا، توادھر آپ ﷺ نے
مسلمانوں کو سفر اور لڑائی کی تیاری کا حکم دیا،
11 رمضان المبارک سنہ 8 ھ کو آپ ﷺ 10
ہزار صحابہ کرام کے ساتھ تیز رفتاری سے مکہ کے قریب وادی مراالظہر پہنچ گئے اور شام کے وقت عظیم خیمہ زن ہوۓ، تو چراگوں کی وجہ سے مکہ
میں خبر پہنچ گئی ، ابوسفیان نے جب دور سے آگ روشن دیکھی تو حیران رہ گیا کہ اتنا
بڑا لشکر کہا سے آگیا۔ اسی وقت رات کی تاریکی میں حضرت عباس نے ابو سفیان کی آواز پہچان لی اور اس سے فرمایا کہ یہ لشکر
حضرت محمد ﷺ کا ہے اور صبح میں مکہ پر حملہ آور ہوگا ، ابوسفیان کے ہوش و
حواس اڑ گۓ تو حضرت عباس نے ابوسفیان کو امان دینے کا وعدہ کیا اور دلدل پر سوار
ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور ابو سفیان کو ایک رات مہلت دی گئی، اور صبح کو
ابوسفیان نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کرلیا اور اسلام قبول کرلیا۔ اسی وقت لشکر اسلام
مسلح ہوکر مکہ میں داخل ہوا، آنحضرت ﷺ کو مکہ سے بے سروسامانی کے عالم میں اپنا
نکلنا یاد آتا تھا اور پھر شاہانہ عظمت و لشکر عظیم کے ساتھ مکہ میں داخل ہونا
دیکھتے تھے تو بار بار شکر باری تعالی بجالاتے تھے، آپ ﷺ مکہ میں بلامزاحمت شوکت و
عظمت کے ساتھ داخل ہوکر خانہ کعبہ کی طرف تشریف لے گۓ، آپ ﷺ نے حجر
اسود کو بوسہ دیا، پھر سواری پر 7
بار بیت اللہ کا طواف کیا،
"حق آیا اور باطل پسپا ہوا اور باطل تو
پسپا ہونے والی چیز ہے" ( سورتہ بنی اسرائیل 18)
آپ ﷺ کہتے
جاتے تھے اورکعبہ کے اندر اور باہر 360 لگے ہوۓ
بت گرتے جاتے تھے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک
تاریخی خطبہ دیااور خطبہ سے فارغ ہو کر کوہ صفا پر جا بیٹھے اور لوگوں سے بیعت
لینے لگے، اور تھوڑے ہی دنوں میں سب عرب نے اسلام قبول کرلیا،(صحیح البخاری کتاب
المغازی، باب ائن رکزالنبی الرایتہ یوم الفتح) ( سورتہ النصر 1-2) ، ( زادالمعاد 3/401-403) ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول
197)
غزوہ حنین: (شوال 8ھ (جنوری ۔
فروری 630ء)
فتح مکہ اور اکثر قریش کے داخل اسلام ہونے کی خبر سن
کر عرب کے ان قبائل ( ہوازن اور ثقیف جو طائف اور مکہ کے درمیان رہتے تھے) میں
زیادہ کھلبلی اور پریشانی پیدا ہوئی کہ مسلمان مکہ کے بعد اب ہمارے اوپر حملہ آور
ہونگے۔ چنانچہ بنو ہوازن کے سردار مالک بن عوف نے بنو ہوازن اور بنو ثقیف کے تمام
قبائل کو جنگ کے لۓ آمادہ کرکے اپنے گرد جمع کردیا، قبائل نصر، جشم ، سعد
وغیرہ بھی سب آمادہ ہوگۓ، اور مقام اوطاس میں اس لشکر عظیم کا اجتماع ہوا۔ جب آپ ﷺ
کو خبر ہوئی تو آپ ﷺ 12 ہزار کا لشکر (10 ہزار مہاجر وانصار ( مدینہ) اور 2 ہزار
اہل مکہ) کے ہمراہ مکہ سے روانہ ہوۓ ۔اور 1 شوال سنہ 8 ھ کو تہامہ کی وادیوں سے گزر کر
وادی حنین میں پہنچے۔ مسلمان وادی کی شاخ در شاخ اور پیچیدہ گزرگاہوں سے ہوکر نشیب
کی طرف اترنے لگے تھے اور صبح کاذب کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی کہ اچانک دشمنوں ( جو
لشکر اسلام کی آمد کی خبر سن کر چھپ کر لشکر کا انتظار کررہے تھے) کی فوج نے کمین
گاہوں سے نکل کر تیراندازی اور شدید حملے شروع کردئیے، حملے کا نتیجہ دیکھ کر
مسلمان سراسیمہ ہوگۓ اور اہل مکہ ( جن میں کچھ نومسلم تھے تو کچھ ابھی تک
مشرکانہ عقائد پر قائم تھے) کے 2 ہزار آدمی پہلے حواس باختہ ہوکر بھاگے جس سے
مسلمان جدھر جس کو موقع ملا منتشر ہونے لگے تو آپ ﷺ کے استقلال اور شجاعت کی بلند
آواز نے مسلمانوں کی ہمت بڑھائی، حضرت عباس نے بھی بلند آواز سے ہر قبیلہ کے نام سے پکارکر آپ ﷺ کی طرف
مائل کیا تو 100 ہی آدمی پہنچ سکے۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہہ کر دلدل
کو دشمنوں کی طرف بڑھایا اور ان 100 آدمیوں نے ایسا حملہ کیا کہ کہ سامنے سے
دشمنوں کو بھگادیا، اور سارا میدان نعرہ تکبیر کے ساتھ حملہ ور ہوا تو ذراسی دیر
میں لڑائی کا نقشہ بدل گیا، اور آخر کاروہ میدان چھوڑ کر بھاگ گۓ، لیکن ان کا سپہ سالار مالک
بن عوف طائف فرار ہوگیا، آپ ﷺ نے اسیران جنگ اور مال غنیمت کو مقام جعرانہ میں جمع
کرنے کا حکم دیا، اس لڑائی میں 6 ہزار قیدی، 44 ہزار اونٹ،44 ہزار سے زیادہ بھیڑ
بکریاں، 4 ہزار اوقیہ چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آئی۔ اور 4 مسلمان شہید ہوۓ۔
پھر مسلمانوں نے وادی حنین سے طائف کے قریب پہنچ کر طائف کا محاصرہ
کیا، 20 دن کے محاصرے میں 12 مسلمان شہید ہوۓ، اور فائدہ یہ ہوا کہ طائف
کے نواحی قبائل مسلمان ہوگئے ، طائف کے محاصرے سے مراجعیت کر کے آپ ﷺ نے مقام
جعرانہ میں اسیران جنگ اور مال غنیمت کی تقسیم فرمائی۔ اسی وقت قبیلہ ہوازن کا وفد
معافی کی درخواست لے کر آیا تو آپ ﷺ نے قبیلہ ہوازن کے 6 ہزار قیدی ذرا سی دیر میں
آزاد کردیے ۔
جعرانہ سے جاتے ہوۓ آپ ﷺ نے عمرہ کی نیت کی۔ عمرہ سے فارغ ہوکر مع مہاجرین و
انصار مدینہ کی طرف روانہ ہوۓ۔ 24 ذیقعدہ سنہ 8 ھ کو آپ ﷺ مع صحابہ کرام مدینہ منورہ میں داخل ہوۓ۔ اس سال مسلمانوں نے (اور
مشرکین نے بھی اپنے طریقہ پر) جح کیا۔
اسی سال آپ کے صاحبزادے ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوۓ، اسی سال آپ کی
صاحبزادی حضرت زینب نے انتقال فرمایا، اسی
سال کے آخر ایام میں آپ ﷺ کے لئے لکڑی
کا منبر تیار کیا گیا، اسی سال منذر بن ساری حاکم بحرین جو آپ ﷺ کا خط دیکھتے ہی
مسلمان ہوگئے ، ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی،
جلد اول 204) ( رہبر انسانیت 304 )
631ء
ہجرت کا نواں سال :
عام الوفود :delegations
فتح مکہ اور جنگ حنین کے بعد آپ ﷺ مدینہ میں
تشریف لاۓ تو ملک عرب
کے مشرک لوگ خودبخود آآکر اسلام میں داخل ہونے لگے سنہ 9 ھ کے شروع ہوتے ہی ملک
عرب کے دور رداز علاقوں سے قبیلوں اور قوموں نے اپنے وکلاء بھیج بھیج کر آنحضرت ﷺ کی
اطاعت کا اقرار کیا اور بڑی کثرت سے وفود الگ الگ دین اسلام کو سمجھنے کے لئے
مدینہ آنا شروع ہوۓ اور جو قبائلی، علاقائی، خاندانی سطح پر آزادانہ
مشرکانہ نظام تھا، اسلام کے تحت آنے پر ایک متحدہ پیغام اور نظام کے تحت آکر ایک
مرکز پر جمع ہوگیا۔
غزوہ تبوک: رجب 9 ھ (اکتوبر 630ء)
جنگ موتہ کی ہزیمت کا
انتقام لینے کے لۓ غسانی بادشان نے لشکر عظیم فراہم کرکے ہرقل روم (
بازنطینیوں) سے امداد طلب کی ، ہرقل نے 40 ہزار کا لشکر جرار، غسانی بادشاہ کے پاس
بھیجا اور خود بھی عظیم الشان فوج لے کر عقب سے روانہ ہونے کا قصد کیا۔
دوسری طرف ابو عامر راہب مکہ سے قیصر روم کے پاس گيا اور قیصر کو
مدینہ پر حملہ کے لۓ اکسانے لگا ، ادھر مدینہ میں منافقین سے برابر
خفیہ پیام و سلام کا سلسلہ جاری رکھا جس کے مشورے سے منافقین نے مسجد ضرار
کی تعمیر شروع کی تھی۔ سرحد شام پر عیسائی فوج اور قیصر کے مدینہ پر حملہ آور ہونے
کی خبر یں مدینہ میں متواتر پہنچنی شروع ہوئی ، چنانچہ ماہ رجب سنہ 9 ھ میں آپ
ﷺ 30 ہزار لشکر لیکر مدینہ سے روانہ ہوۓ، لشکر اسلام چشمہ تبوک پر
سرحد شام میں پہنچ گیا تو قیام کیا، ہرقل نے جب آپ ﷺ کے آنے کی خبر سنی تو ڈر کے
مارے پیچھے ہٹ جانے میں بہتری سمجھی (چونکہ ہرقل آپ ﷺ کو پیغمبر حق سمجھتا تھا) ۔
عیسائی لشکر اور غسانی بادشاہ سب، لشکر اسلام کی خبر سن کر ادھر ادھر چلے گۓ اور
میدان خالی چھوڑ گۓ۔ یہاں آپ ﷺ نے 20 دن تک مقام کیا اس عرصہ میں اطیہ کا حاکم
بحسنیہ بن رویتہ اظہار اطاعت کے لۓ حاضر ہوا اور جزیہ ادا کرنے کی شرط پر اس نے صلح کرلی،
پھر مقام جرباء کے لوگ آۓ آپ ﷺ نے ان کو صلح نامہ لکھ دیا اور انھوں نے بھی
جزیہ ادا کرنے کا اقرار کیا، اس کے بعد مقام آورخ کے باشندے حاضر ہوۓ انہوں نے
بھی جزیہ کی ادائیگی کے اقرار پر صلح نامہ حاصل کیا۔
تبوک کے قریب دومتہ الجندل کا علاقہ تھا، وہاں کا
حاکم اکیدر بن عبدالملک بنو کندہ کے قبیلے سے تھا اور نصرانی مذہب رکھتا تھا، آپ ﷺ
کی خدمت میں حاضر نہ ہونے کی سرکشی کو دیکھ کر آپ ﷺ نے خالد بن ولید کو ایک دستہ فوج کے ہمراہ روانہ کیا اور فرمایا کہ
اکیدر نیل گاۓ کا شکار کرتے ہوۓ ملے گا
اس کو گرفتار کرلاؤ، ویسا ہی ہوا اکیدر اپنے بھائی حسان کے ساتھ نیل گاۓ کا شکار
کرنے کے لۓ نکلا کہ حضرت خالد بن ولید نے اس کو گھیر لیا، اکیدر گرفتار ہوا اور حسان مارا گیا،
اور تبوک میں آپ ﷺ کی خدمت میں اکیدر کو حاضر کیا، آپ ﷺ نے اکیدر کی جان
بخشی فرمائی ، اس نے اطاعت اور جزیہ کی ادائیگی کا اقرار کیا اور اپنے قلعہ میں
واپس آکر دو ہزار اونٹ، آٹھ سو گھوڑے، چار سو زرہیں، چار سو نیزے آپ ﷺ کی خدمت میں
بطور پیشکش بھیجے اور صلح نامہ لکھ کر مطمن ہوا۔ ( زادالمعاد 3/527) ( سیرت ابن ہشام 2/525-527) ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول
208)
سرحد شام کے حاکموں اور رئیسوں سے اطاعت کا اقرار لیکر اور
ہرقل کی فوج کی مرعوبیت ( ہار ) کو دیکھ کر ( جس میں 2 مہینے صرف ہوۓ ) آپ ﷺ
تبوک سے مدینے کی طرف روانہ ہوگۓ، مدینہ سے قریب راستے میں منافقین کی بنائی ہوئی مسجد ضرار
تھی( مدینہ کے منافقوں کی سازشی مجلیسیں مویلم نامی یہودی کے یہاں روزانہ منعقد
ہوتی تھیں، 12 منافقوں نے مل کر اپنی ایک مسجد الگ تعمیر کی، تاکہ مسجد میں سازشی
جلسے، اور ہر قسم کی مخالف اسلام صلاح و مشورہ کی باتیں ہوا کریں اور مسلمانوں میں
تفرقہ ونا اتفاقی پیدا کرنے کا سامان پیدا کیا جاۓ ، جس سے
منافقوں نے مسلمانوں کی جنگ اور سفر کی تیاری کی مصروفیت میں ہمت شکن باتیں شروع
کی، موسم گرما کے طویل سفر کی دقتیں لوگوں میں بیان کرنے لگے، کیونکہ ان کا مقصد
قیصر کی فوجوں کو مدینہ پر حملہ آور کرانا تھا، وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان ملک
شام کی طرف پہلے ہی حملہ آور ہوکر عیسا ئی فوجوں کے سیلاب کو عرب میں داخل ہونے سے
روک دیں) آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو مسجد کو جلانے اور مسمار کرنے کا حکم دیا، کیونکہ آپ ﷺ
کو بذریعہ وحی معلوم کرادیا گیا تھا اور آپ ﷺ ماہ رمضان سنہ 9 ھ میں داخل
مدینہ ہوۓ،
آپ ﷺ کے غزوہ تبوک سے واپس آنے کی خبر اہل
طائف نے سنی، تو عبدیالیل بن عمرو اہل طائف کی طرف سے وکیل بن کر آۓ اور
اسلام قبول کیا اور اپنی قوم کی طرف سے آپ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی، آپ ﷺ نے ان
پر عثمان بن ابی العاص کو حکمراں فرمایا اور مغیرہ بن شعبہ کو لات کے بت اور مندر کے منہدم کرنے کے لۓ روانہ
کیا۔ اس کے بعد بلادے کے عدی بن حاتم نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بعیت کی اور مسلمان ہوکر
اپنی قوم کی طرف واپس ہوۓ۔
تبوک سے واپس ہونے کے بعد وفود کا تو اثر ایسا تھا کہ آپ ﷺ مدینہ
سے جدا نہیں ہوسکتے تھے، کیونکہ قبائل برابر آآکر اسلام میں داخل ہورہے تھے۔ جب حج
کا موسم آیا تو آپ ﷺ نے اپنی
جگہ حضرت ابو بکر صدیق کو حج
کا امیر بنا کر روانہ کیا اور 20 اونٹ قربانی کے آنحضرت ﷺ نے اپنی
طرف سے ان کے ساتھ کیے ، 5 اونٹ قربانی کے حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی
طرف سے لئے ، 300 مسلمانوں کا قافلہ روانہ ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیق کی
روانگی کے بعد سورہ برات کی 40 آیتیں نازل ہوئیں۔
اسی سال آپ ﷺ کی
صاحبزادی ام کلثوم کی وفات ہوئی، اسی سال حج فرض
ہوا، اسی سال حج مسلمانوں کے زیر اہتمام ہوا۔ اسی سال آپ ﷺ نے ایران کے
بادشاہ کسری کے نام خط روانہ کیا تھا ، اور اسی سال منافق عبداللہ بن ابی سلول فوت
ہوا۔ ( تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ
نجیب آبادی، جلد اول 211)
ہجرت کا دسواں سال :
وفود کی آمد اور قبائل عرب کا قبول اسلام :
محرم سنہ 10 ھ سے آخر سال تک وفود کی آمد اور قبائل عرب کے
اسلام میں داخل ہونے کا سلسلہ جاری رہا ،
1) ماہ ربیع الثانی میں حضرت خالد بن ولید نجران
اور اس کے اطراف و جوانب روانہ ہوۓ، ان
لوگوں نے فورا بہ خوشی اسلام قبول کرلیا، جس میں قبیلہ بنو حرث بن کعب بھی
تھا۔
2) ماہ رمضان میں غسان کا وفد آیا، جس میں تین آدمی تھے آپ ﷺ کی خدمت
میں حاضر ہوکر بطیّب خاطر اسلام قبول کیا، اور اپنی قوم میں لوٹے۔
3) ماہ شوال میں سلامان کا وفد7 آدمیوں کا آیاجس میں ان
کا سردار حبیب بن عمرو بھی تھا ، مسلمان ہوا۔
4) ازد کا وفد 10 آدمیوں کا آیا، یہ سب بھی مشرف بہ
اسلام ہوۓاور ان کی تبلیغ سے تمام قبیلہ نے اسلام قبول کیا۔
5) قبیلہ جرش نے قبیلہ ازد کے اسلام قبول کرنے پر لڑائی کی،
لیکن آپ ﷺ نے جرش کی شکست کی پیشن گوئی کی تھی،( لڑائی ہوئی اور
جرش کو شکست ہوئی) جس سے قبیلہ جرش مسلمان ہوگیا۔
6) یمن میں حضرت علی کی تبلیغ اسلام سے یمن کا مشہور قبیلہ ہدان تمام
مسلمان ہوگیا، بعد میں تمام یمن اسلام میں داخل ہونے شروع ہوۓ۔
7) قبیلہ مراد کا وفد ملوک کندہ سے علیحدہ ہوکر آیا اور مشرب
بہ اسلام ہوکر واپس گیا۔
8) قبیلہ عبد قیس ( عیسائی) کا وفد جارود بن عمرو کی سرداری
میں آیا ، سب مسلمان ہوکر واپس گۓ اور اپنے تمام قبیلہ کو مشرب بہ اسلام کیا۔
9) یمامہ سے بنو حنیفہ کا وفد آیا جس میں مسیلمہ بن حبیب کذاب
جرجان بن عنہم طلق بن علی، سلمان بن حنظلہ شامل تھے، ان لوگوں نے مدینہ میں پہنچ
کر اسلام قبول کیا۔
10) 10 یا زیادہ آدمیوں کا وفد بنو کندہ کا آیا۔
11) اسی زمانے میں کنانہ کے وفد کے ساتھ حضرموت کا بھی وفد آیا،
ان سبھوں نے بطیّب خاطر اسلام قبول کیا۔
12) اسی سال وائل بن حجر خدمت نبوی ﷺ میں حاضر
ہوکر مسلمان ہوۓ، آپ ﷺ نے ان کے
داخل اسلام ہونے سے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔
13) اسی سال محارب کے 3 آدمیوں کا اور ندحج کے 15 آدمیوں کا وفد
آیا، اور فرائض اسلام کی تعلیم سے واقف ہوکر اپنی قوم میں واپس گۓ۔
14) اسی سال نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آیا، جس میں 70 سوار
مع سردار عبدالمسیع اور ان کا اسقف ابو حارثہ بھی تھا، مسجد نبوی میں داخل ہوکر
انھوں نے بحث مباحثہ شروع کیا کہ عیسی علیہ سلام اللہ کے بیٹے تھے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا
اگر تم اپنے قول میں سچے ہوتو میرے ساتھ میدان میں چلو ، دونوں گروہ الگ الگ بیٹھ
کر کہیں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو۔ آپ ﷺ کی یہ
مستعدی دیکھ کر عیسائی خوف زدہ ہوگۓ، اور کہنے لگے کہ ہم مباہلہ نہیں کرتے ، آپ ﷺ نے فرمایا
مباہلہ نہیں کرتے تو اسلام قبول کرو لیکن ان کو یہ بھی منظور نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا
تم ہم کو جزیہ دو یا ہم سے لڑائی کرو، وہ جزیہ دینےپر رضامند ہوگۓ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو دنیا میں قیامت
تک کوئی عیسائی نہ رہتا۔ چند روز کے
بعد نجران جاکر تمام عیسائی مسلمان ہوگۓ۔
15) قریبا تمام قبائل یمن اور ملک یمن کا بادشاہ باذن مسلمان
ہوچکا تھا۔ ( تاریخ
اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 213) ( سیرت ابن اسحاق: 2/309-310) (زادالمعاد : 3/593-594 ،
مجمع بحارالانوار : 5/272 ) ( طبقات ابن سعد : 1/291-359)
632 ء
حجۃ
الوداع : (
سورہ مائدہ: 3 ) (Farewell Sermon)
آپ ﷺ ذیقعدہ سنہ 10 ھ کو مدینہ منورہ سے حج بیت
اللہ کے لۓ روانہ ہوۓ۔
آپ ﷺ کے ساتھ مہاجرین و انصار
رؤساعرب کی ایک جماعت اور قربانی کے 100 اونٹ تھے، مکہ میں اتوار کے روز 4 ذی
الحجہ کو داخل ہوۓ، حج ادا کر کے عرفات میں
ایک خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس خطبہ کے کلمات فرماۓ جیسے
کسی سے کوئی وداع ہوتاہو ، اسی لۓ اس
حج کو حج الوداع کہتے ہے۔ اس حج میں ایک لاکھ 24 ہزار صحابہ شریک تھے،
اس خطبہ میں آپ ﷺ نے اسلامی تعلیمات کا ایک نچوڑ پیش کیا
اور مسلمانوں کوگواہ بنایا کہ انہوں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا ہے۔ اور یہ بھی
تاکید کی کہ یہ باتیں ان لوگوں کو بھی پہنچائی جائیں جو اس حج میں شریک نہیں ہیں۔
اس خطبہ میں انہوں نے یہ فرمایا کہ شاید مسلمان انہیں اس کے بعد نہ دیکھیں۔ آپ ﷺ
نے فرمایا کہ مسلمان پر دوسرے مسلمان کا جان و مال حرام ہے۔ اور یہ بھی کہ نسل کی
بنیاد پر کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے اسلام کے حرام و حلال پر بھی روشنی
ڈالی۔ خطبہ کے آخر میں آپ ﷺ نے تاکید کی کہ جو حاضر ہے وہ غائب تک اس پیغام کو
پہنچائے۔ (رہبر انسانیت 342 ، اس حج کی تفصیل کے لئے علامہ ابن قیوم کی کتاب زادالمعاد دیکھئے ) مدینہ
منورہ میں واپس تشریف لے آنے کے بعد آپ ﷺ کے
صاحبزادہ ابراہیم نے انتقال فرمایا۔
ہجرت کا گیارہ ہواں سال :
حضور ﷺ کی علالت
:
محرم سنہ 11 ھ میں آپ ﷺ کو بخار
آیااور بڑھتا گیا، ( اس وقت بعض مفسدوں نے سر اٹھایا، طلیحہ، خویلد، اسود،
سجاح بنت حرث
نے الگ الگ نبوت کا دعوی کیا۔ ان میں مسلیمہ کذاب یمامہ میں ( جو کہ وحشی قاتل
حمزہ کے ہاتھ سے ہلاک ہواتھا)
اور اسود بن کعب عنسی یمن میں ( جو کہ فیروز نامی ایک مرد مبارک کے ہاتھ سے مارا
گیا ) زیادہ مشہور ہوگۓ تھے ) ، 26 صفر سنہ 11 ھ کو بیماری سے کسی قدر افاقہ
محسوس ہو ا تو آپ ﷺ نے حضرت اسامہ
بن زید بن حارث کو سالار لشکر بنا کر شام و فلسطین کی سرحدوں کی خبر سن کر جنگ روم
کی تیاری کا حکم دیا کیونکہ یمامہ و یمن کے فتنوں اور عرب کے عیسائیوں نے رومیوں
کو پھر ملک عرب کی طرف متوجہ کردیا تھا۔
وفات رسول الله ﷺ:
دوپہر کے قریب روز شنبہ 12 ربیع الاول سنہ 11 ھ کو اس دار
فانی سے آپ ﷺ نے انتقال فرمایا۔ اگلے دن سہ شنبہ کو دوپہر کے قریب
مدفون ہوۓ، حضرت علی نے آپ ﷺ کو غسل دیا۔
جب غسل دیکر آپ ﷺ کی
تجہیز سے فراغت ہوئی تو صحابہ میں اختلاف ہوا کہ آپ ﷺ کو کہاں دفن
کیا جائے تو بعض کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے مکان
میں ، حضرت ابوبکرصدیق نے آکر
کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا
ہے کہ ہر ایک نبی اسی جگہ دفن کیا گیا ہے جہاں اس کی روح قبض کی گئی ہے۔ لوگو ں نے
یہ سنتے ہی آپ ﷺ کے فرش
کو جس پر آپ ﷺ کا
انتقال ہوا تھا ( حضرت عائشہ کے حجرے
میں ) ، اٹھا دیا اور اسی جگہ قبر کھودی گئی۔ قبر بغلی کھودی گئی۔ جب قبر
تیار ہوگئی تو جنازہ کی نماز پڑھنی شروع ہوئی۔ جو کسی امام کی زیر امامت ادا
نہیں ہوئی بلکہ الگ الگ ادا کی گئی۔ (
تاریخ اسلام ، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 220)
مسلمانوں
پر دہشت گردی کا الزام لگانے والی قوم کی تاریخ :
مسلمانوں کی جنگوں کو مسلمانوں کا ظالمانہ عمل کہنے والوں کے سامنے یہ حقیقت واضح
کرنے کی ہے کہ تمام جنگوں میں جو انسانی رواداری اور حسن اخلاق کا معاملہ رہا اس
کا دوسرے مذھبوں اور تمد نو ں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں پیش آنے والے حالات
سے موازنہ کیا جاۓ تو حیرت ناک
نمونہ سامنے آتا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 40 سال عمر کی مدت میں جو نبوت
ملنے سے قبل کی تھی ، ستھری اور بے داغ اور اعلی صفات کی زندگی گزاری،مخالفت سے
سابقہ پڑا اس میں آپ کے 23 سال گزرے، ان میں 14 سال صبر و برداشت کے ساتھ دین کی
تبلیغ میں گذرے، تکلیفیں برداشت کی جواب نہیں دیا اور صبر کرتے رہے، جب قتل کردۓ جانے کی سازش ہوئی تو وطن چھوڑ کر دوسرے شہر میں چلےگئے اور جب دشمن کے حملہ کا خطرہ ہوا تو حملہ کا جواب دینے
کی اجازت ملی اور دشمن کی کاروائی خطرناک بڑھتی گئی تو کھل کر جنگ کرنے کی اجازت
ملی اور مدینہ منتقل ہونے کے بعد 10 سالہ مدت میں سے آخری 8 سال میں سے صرف 7 سال
کی مدت ایسی گزری کہ مسلح طریقہ سے مقابلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا، اس میں بھی 2
سال معائدہ امن اور صلح کے گزرے، اس اعتبار سے صرف 6 سال دشمنوں سے مقابلوں میں
گزرے، اور کامیابی ملتی رہی، جنگ بدر کے 72 قیدیوں میں سے 70 کو آپ صلی اللہ
علیہ و سلم نے جرمانہ لیکر آزاد کردیا ( بعض قیدیوں کو بلا فدیہ لئے ہوۓ ویسے ہی چھوڑدیا، فی کس چار ہزار درہم سے ایک ہزار درہم
تک فدیہ مکہ والوں نے بھجوا کراپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھڑالیا، جو قیدی
لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور زرفدیہ بھی ادانہ کرسکتے تھے، ان سے کہا گیا کہ
مدینہ کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادو اور آزاد ہوجاؤ ( تاریخ اسلام ، مولانا
اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد اول 141 ) ، قیدیوں کو مہمانوں کی طرح رکھا گیا،
جنگ بدر کے بعد غزوۂ بنی
المصطلق میں 100 سے زائد مردو عورت قید ہوۓ اور بلا کسی جرمانہ کے آزاد کردے گئے ، حدیبیہ کے میدان
میں 80 حملہ آور گرفتار ہوۓ لیکن بلا کسی جرمانہ کے آزاد کردے گئے، جنگ حنین میں 6
ہزار زن و مرد بلا کسی معاوضہ کے آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے آزاد کردیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنی طرف سے اسیر کنندگان کو آزادی کا معاوضہ ادا کیا تھا۔
ذرا ایک
طرف اسلام کی ان جنگوں کے حالات سامنے رکھتے ہوۓ اسلام اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگانے والی
اقوام کی تاریخ وملاحظہ کریں تو زمین و آسمان کا فرق معلوم
ہوگا،
1) فرانس
میں جمہوری انقلاب آیا اور انسانوں کو قتل کرنا ممکن نہ رہا تو گلوٹیں ایجاد کرنا
پڑیں جو بیک وقت بیسیوں انسانوں کے سروں کو ناریل کی طرح اڑادیتی تھی، مورخین کے
اندازے سے اس جمہوری انقلاب نے 26 لاکھ انسانوں کو گلوٹوں کی بھیٹ
چڑھادیا۔
2) روس
میں اشتراکی انقلاب نے ایک کروڑ سے زائد انسانوں کو قتل و غارت گری اور برفانی قید
خانوں کے حوالے کردیا۔
3)
1914ء کی ہولناک جنگ عظیم میں یورپی ممالک نے جرمنی سے اپنے علاقوں کی آزادی کے لئے
قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا، اس میں روس کے 17
لاکھ، فرانس کے 13 لاکھ 70 ہزار، اٹلی کے 4 لاکھ 20 ہزار ، آسٹر یلیا کے ا8 لاکھ ،
برطانیہ کے 7 لاکھ 20 ہزار ، بلغاریہ کے ایک لاکھ ، رومانیہ کے ایک لاکھ، آسٹریا
کے ایک لاکھ ، ترکی کے 2 لاکھ 5 ہزار ، بلجیم کے ایک لاکھ 2 ہزار ، سروماہ نٹی
نیگرو کے ایک لاکھ اور امریکہ کے 50 ہزار انسان قتل ہوۓ، مجموعی
تعداد 73 لاکھ 38 ہزار بنتی ہے یہ جنگ چار سال چلی، دوسری طرف اسلام کی 8
سالہ جنگوں کا نقشہ دیکھۓ ؟؟
4) دوسری جنگ عظیم 1914ء سے شروع ہوئی 1938ء 1942ء
تک رہی طاقت کے نشے میں مست ان عالمی طاقتوں نے علاقہ پر قبضہ جمانے کے لۓ اربوں اور کھربوں پاونڈ اور ڈالر کا مالی نقصان کیا،
نتیجہ ایک کروڑ 6 لاکھ انسان مجموعی طور سے صفحہ ہستی سے مٹ گۓ، مالی
طور پر صرف امریکہ کا 350 ارب ڈالر خرچ ہوا، ایک کروڑ لوگ شہری بے گھر ہوۓ لاکھوں انسان معذور ہوگۓ اور لاکھوں بچے ایٹمی جراثیم کے اثرات سے اب بھی پیدا
ہورہے ہیں۔ آمنے سامنے کی جنگ بہادری کی ہوتی ہے امریکہ نے جنگ دوم میں بغیر
مقابلہ کے ہیرو شیما اور ناگاساکی کی پرامن آبادی پر ایٹم بم گراکر 2 لاکھ 75 ہزار
انسانوں کو لمحہ بھر میں ہوا میں تحلیل کردیا، 12 ہزار ٹن وزنی بم شہری آبادیوں پر
برسایے گئے جن کی وجہ سے درجہ حرارت
5 لاکھ ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ ہو گیا۔
5)
1955ء میں کورین وار میں امریکہ کے کوریا پر قبضہ کرنے کے لئے جنگیں ہوئیں، ان میں 15 لاکھ انسان قتل ہوۓ۔
6) 1990ء میں گلف وار میں سپرپاور روس کی سرپرستی
میں لڑی گئی ایک لاکھ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ۔
7)
25 دسمبر 1979ء سے 1999ء تک ہونے والی روس کی افغان وار میں 10 لاکھ
سے زائد انسان مارے گۓ اور کروڑوں
ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ لاکھوں لوگوں کو ابھی تک اپنے گھر کی چھت نصیب نہیں ہوئی۔
8)
ہندوستانی مورخ پروفیسر امریش مشرا نے اپنی تازہ تحقیقی کتاب " war of
civilization india the road to delhi 1857 A.D " میں لکھا ہے کہ " انگریزوں نے 1857ء میں
10 ملین ( ایک کروڑ) ہندوستانیوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا، اور یہ سب کے سب بے گناہ
تھے، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے ملک کی آزادی کی خاطر برطانوی سامراج کے
ظلم و تشدد کے خلاف تحریک شروع کی تھی جو 1857ء سے 1867ء تک چلا "۔ ( رہبر
انسانیت 328-337 )
No comments:
Post a Comment